Pagal Ankhon Wali Larki - Episode 5

Written by Eshnal Syed

آدھی رات کے وقت سب گھر والے سو رہے تھے کہ سیٹھ عبداللہ کے فون کی گھنٹی بجی
“یا اللہ خیر۔”
بیل کی آواز پر سب ہی اٹھ گئے اور جو خبر انہیں ملی وہ کسی قیامت سے کم نا تھی
سیٹھ عبداللہ کے کارخانے کو کسی نے رات و رات آگ لگا دی تھی… کارخانے میں پڑا لاکھوں کا فرنیچر جل کر خاکستر ہو گیا تھا… کچھ تیار سیٹس اور کچھ فرنیچر بنانے کا سامان تھا
کارخانے کے مالک کی حیثیت سے سارا نقصان انہیں اکیلے بھرنا تھا، کچھ مالکان نے اپنے پیسے کا مطالبہ کر دیا جس کیلئے سیٹھ عبداللہ کو گاڑی سمیت آسیہ خاتون کا سارا زیور بیچنا پڑا۔
کم ظرف لوگوں کے ساتھ دنیا میں وسیع القلب لوگ بھی چند ایک موجود ہیں جو بابا کے پرانے دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے بابا سے کہہ دیا کہ آپ دوبارہ بزنس اسٹیبلش کرکے ہمیں قرض لوٹا دیجئے گا
سیٹھ عبداللہ اٹھارہ سال کی عمر میں پہلی بار کراچی آئے تھے، یہاں پڑھنے کے ساتھ نوکری بھی شروع کردی۔ شروع میں کاریگر کی حیثیت سے کام کیا، پھر تیس سال کی عمر میں وہ شادی کر کے کراچی آگئے۔
اس پورے عرصے میں انہوں نے بے انتہا محنت کی تنکا تنکا جوڑ کر انہوں نے سب سے زیادہ سے پہلے یہ کارخانے اور مارکیٹ میں شاپ خریدی تھی، گھر بنایا… جس آشیانے کو بنانے میں انہوں نے زندگی کے کئی سال صرف کر دئیے وہ ایک رات میں اجڑ گیا۔

صدمہ بہت بڑا تھا۔ اسی صدمے کو وہ دل پرے گئے تھے، ان کی طبیعت خراب رہنے لگی، دوسرا کارخانہ انہوں نے لگایا پر وہ بھی ناچل سکا، شاید خدانے انکا رزق یہیں تک لکھا تھا۔
وہ ساٹھ کے ہندسے کو عبور کر رہے تھے، اور ساٹھ سال کی عمر میں بھی تیس سال کے جوان مرد کی طرح زندہ دل اور محنتی تھے، بس یہ ایک صدمہ انہیں ساٹھ سے سو سال تک لے گیا۔ میڈیکل کی پڑھائی کیلئے کافی سارا پیسہ خرچ ہوتا تھا، اس نے میڈیکل چھوڑ کر سمپل بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران اس کا ایک سال ضائع ہوگیا۔

─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

شام میں اسے کچھ ضرورت کی چیزیں لینے کاسمٹک اسٹور جانا پڑا، وہ آدمی کے ساتھ جب واپس لوٹ رہی تھی تو اس نے راستے میں زئی کو دیکھا، جو انتہائی غصے سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ گھر لوٹی تو اسے میسج آیا۔
کیا لگتا ہے وہ کاسمیٹکس اسٹور والا اشنال عبداللہ آپ کا؟
“کافی گہری دوستی لگتی ہے آپ دونوں کی۔”
“کب سے ہے؟”
“مجھ سے کیوں چھپایا؟”
اور وہ اپنا کھلا ہوا منہ بند کرنا بھول گئی۔
“کیا ہوا ہے کوئی جواب؟”
زئی مجھے ضروری چیزیں لینے جاناتھا، وہ ان کے پاس نہیں تھیں تو میں پوچھ رہی تھی کب تک منگوا دیں گے
تمہیں پتا ہے میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میری ایشے یوں سڑکوں پر کھڑی غیر مردوں سے
اس نے جیسے خود کو غلط لفظ کہنے سے روکا۔
میری مجبوری ہے، امی پڑھی لکھی نہیں ہیں، اب محلے والوں سے تو سامان نہیں منگوا سکتی ناں۔
جو بھی ہے مجھے بہت برا لگا۔ تمہیں جو منگوانا ہو مجھے بتاؤ، میں لادوں گا۔ اور یہ بہانہ بھی نا ملے کے تم یہاں نہیں تھے۔ میں کوئٹہ سے واپس آ کر لا دوں گا، بس تم کسی سے بات نہیں کرو گی۔ میں تمہارا سایہ بھی کسی پر نہیں پڑنے دینا چاہتا۔ تم صرف میری ہو، میں اس ہوا سے بھی لڑوں گا جو تمہیں چھو کر گزرے گی۔
…زئی کے ان لفظوں سے اشنال نے اسے اپنے بخت کا اونچا ستارہ مان لیا تھا
اس دن کے بعد اشنال نے جو منگوانا ہوتا امی کو لکھ کر دے دیتی مگر خود آ جاتی۔ مرد عورت کو قیدی بنا کر رکھنا چاہتا ہے مگر قیدی بنا پسند نہیں کرتا۔

─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

زئی کا افیئر فائزہ سلیم تک ہی نہیں رہا تھا، اس کے افیئرز زئی کی لسٹ لمبی ہوتی جا رہی تھی۔ ہر روز وہ ایک نئے افیئر کو لے کر جھگڑنے لگے تھے۔
ان کے درمیان محبت کم اور لڑائیاں بڑھ گئیں تھیں۔ اپنے افیئرز کو چھپانے کیلئے زئی اس پر باز پرس کرنے لگا تھا۔
جب سے زئی نے اسے کہا تھا،وہ اسکول کے پروفیسر کے ساتھ میٹنگ کے بہانے گپے لڑاتی ہے، تب سے اس نے سکول کی جاب ہی چھوڑ رکھی تھی۔ وہ صرف زئی کی تھی، مگر زئی صرف اس کا نہیں تھا۔
اس کا زئی ایسا تو نہیں تھا۔ وہ برا ہرگز نہیں تھا، وہ ایک اچھا لڑکا تھا، ہر لحاظ سے مکمل۔
ایک محلے میں رہتے ہوئے وہ کبھی اشنال کے راستے نہیں ناپتا تھا، وہ گلی کے نکڑ پر کھڑے ہو کر آوارہ لڑکوں کی طرح اس کے تماشے نہیں لگاتا تھا۔
پھر اسے اچانک کیا ہو گیا تھا….؟
وہ آج بھی فروا کے آگے اپنے دکھڑے رو رہی تھی 
اشنال تم مان لو اسے تم سے محبت نہیں ہے، اور ہم کسی کو زبردستی خود سے محبت کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔
میں نے اسے کبھی مجبور نہیں کیا وہ مجھ سے محبت کرے، میں سے بس سچائی مانگی ہے۔ میں نے اسے یہ کہاں ہے کہ میرے ساتھ لکا چھپائی نا کھیلے، میں نے رو اسے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اگر اسے کسی اور سے محبت ہے تو بتائے مجھے، میں ہٹ جاؤں گی اس کے راستے سے، میں اس کی خوشی میں خوش رہوں گی کڑوا گھونٹ بھر لوں گی میں دور ہو جاؤ گی اس سے، میرے پر خلوص جذبات کی توہین یوں تو نا کرے۔
وہ کہتا ہے اسے مجھ سے محبت ہے اور کسی سے نہیں۔ اللہ رسول کی قسمیں کھا کر کہتا ہے،مگر فری اس کے لفظوں اور اس کے کرنوں میں واضح فرق ہے۔ وہ جو کہتا ہے وہ ویسا کرتا نہیں ہے، اگر اسے مجھ سے محبت ہوتی تو میرے ہوتے ہوئے اسے باقی لوگوں سے تعلقات نا رکھنے پڑتے
وہ ان چار سالوں میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ میں اسے شیئر نہیں کرسکتی۔
بولتے بولتے اس کی آواز بھر گئی تھی۔ 
اشنال محبت میں عورت کو ہر طرح کی قربانی دینی پڑتی ہے۔
فری میں نے اس کی ہر وہ بات مانی ہے جو مجھے نہیں ماننی چاہیے تھی، مگر وہ کسی طرح بھی خوش نہیں ہوتا۔ اسے میری سائیڈ دکھائی ہی نہیں دیتی۔نا میری محبت  نظر آتی ہے اسے نا ہی میرا خلوص
…اس نے میرے ساتھ سب کچھ کیا مگر محبت نہیں
وہ خود کو کبھی نہیں بدل سکتا ایشے ۔ دونوں صورتوں میں تمہیں ہی دل بڑا کرنا ہے یا تو ابھی اسی موڈ پر اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاؤ یا پھر اپنے دل کو وسیع کرلو کہ اس کے ان افئیرز کو اگنور کر سکو
..اس نے فری کو بے یقینی سے دیکھا
“وہ خود کو کسی حال میں نہیں بدلے گا، میری جان”
“تم خود کو بدل دو……یا چھوڑ دو یا شئیر کر لو”
دونوں صورتیں اذیت بھری تھیں
..وہ اسے چھوڑ نہیں سکتی تھی، وہ اسے بھول نہیں سکتی تھی، ناممکن تھا۔ ہاں مگر وہ اسے شئیر کرنے کا سوچ سکتی تھی
..اور اشنال عبداللہ نے پہلی بار زندگی میں کچھ شئیر کرنے کا سوچا تھا
…مگر خود کو بدلنے میں وقت لگتا ہے،یوں نہیں ہوتا کہ یہاں ارادہ باندھا وہاں ہم بدل گئے
…وہ جتنا آسان سمجھ رہی تھی اتنا نہیں تھا

─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

امی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، وہ امی کو لیکر کلینک آئی تھی اور اپنی باری کے انتظار میں بینچ پر بیٹھی تھی۔ کلینک چھوٹا سا تھا، جس کے دو حصے بنانے کے لیے درمیان میں لکڑی کی دیواریں بنائی گئی تھیں۔ گیٹ سے انٹر ہونے پر پہلا حصہ وہ تھا جہاں مردوں کیلئے جگہ تھی اور دوسرا راستہ عورتوں کے لئے مختص تھا۔
ابھی وہ کچھ دیر اور کلینک میں پھیلی دوائیوں کی بدبو پر غور کرتی کہ اسے جانی پہچانی آواز سنائی دی۔
اس آواز کو وہ ہزاروں کے میلے میں بھی پہچان سکتی تھی۔
زئی کہہ رہا تھا۔
عروسہ میم، آپ کے اپنے ایریا میں ڈاکٹروں کا کال پڑھ گیا تھا جو آپ یہاں آگئیں؟
وہ ہنسی۔
ہاہاہاہاہاہاہا…….. جناب ہم کیا کریں کہ ہمیں آرام ہی آپ کے ڈاکٹر سے آتا ہے۔
ہائے۔” وہ دلکشی سے بولا۔”
اس کے منہ سے نکلے اس ہائے پر ایشے کی جان نکلتی تھی۔ مگر آج اسے یہ ہائے زہر کی طرح لگا۔
وہ پھر بولا۔
میں صدقے اس بیماری کے جو آپ کو یہاں تک لائی ہے۔
“بڑے ہی دل پھینک ہو آپ۔”
 آہااں، تو پھر کیا خیال ہے؟ وہ شوخا ہوا، اپنی عادت کے مطابق۔
میں انگیجڈ ہوں۔ اس نے زئی کی بات کو ہوا میں اڑایا۔
“اس گنجے کے ساتھ؟”
بری بات۔ لڑکی نے شاید گھوری دی تھی جس پر زئی ہنسا تھا۔
ایک بار غور کرو تمہارے اس گنجے سے لاکھ پیارا ہوں میں۔  پھر وہ دونوں ہنسے
شاید وہ بھول گئے تھے کہ مردوں کی سائیڈ پر چاہے کوئی نا ہو مگر پردے کے اندر بیٹھے لوگ حرف با حرف نازیبا گفتگو سن رہے تھے۔
امی چیک اپ کے بعد جانے کے لیے اٹھیں تو ساتھ وہ بھی اٹھ گئی گیٹ پش کرنےسے پہلے اس نے باہر کے منظر کو دیکھنے کیلئے لمبی سانس کھینچی۔ ادھر وہ باہر نکلی ادھر وہ ہوش میں آئے۔
اشنال کی شکوہ کناں آنکھیں زئی کی حیران آنکھوں سے لمحے بھر کو ٹکرائیں پھر اشنال ہی آنکھیں جھکا کر گزر گئی۔
ابے یار…………” زئی بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہ گیا۔”
…جاری ہے

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top