Pagal Ankhon Wali Larki - Episode 8

Written by Eshnal Syed

وہ چھت پر ٹیوشن پڑھا رہی تھی جب دو انجان لڑکیاں اس کا پتا پوچھے چھت پر اسے ملنے آئیں ۔
”تو تم ہواشنال عبد اللہ ۔“ ان میں سے ایک لڑکی نےطنزیہ نگاہوں سے اشنال کو دیکھا
“ آپ کون؟“
”زئی کی فیانسی ہوں میں، علیزے۔“
اور اشنال کو لگا کسی نے بجلی کا نگا تار اس پر پھینک دیا ہو….
”یقین نہیں آرہا؟ یقینا ز ئی نے نہیں بتایا ہوگا ، اس کا کہنا ہے جس سے عشق ہوتا ہے اسے پر دوں میں چھپا کر رکھا جاتا ہے۔“ وہ ایک ادا سے مسکرائی۔
”میں زئی کے بڑے ماموں کی بیٹی ہوں، پی ایچ ایس سوسائٹی میں رہتی ہوں ۔ زئی کراچی میرے لیے آتا ہے، صرف میرے لیے، وہ میرے علاوہ کسی سے محبت نہیں کرتا۔“
اس کے لفظوں میں یقین بول رہا تھا …
”تم جیسی لڑکیاں تو بس اس کی وقت گزاری ہیں، مجھ سے ناراض ہوتا ہے ناجب تو ایک آدھ افئیر بنا لیتا ہے، بس ایک تم ہو جو کسی جن کی طرح اس کے ساتھ چپک گئی ہو۔
بتایا تھا اس نے مجھے تمہارا کہ تم چھوڑنے کے بعد بھی اس کے پاس لوٹ جاتی ہو۔
پاگل لڑکی، خود کو برباد مت کرو تمہارا نہیں ہے وہ ، نا ہو سکتا ہے۔ وہ میرا تھا ہے اور رہے گا … “
پھر اس نے اپنے بائیں ہاتھ کی وہ انگلی دکھائی جس پر رنگ موجود تھی۔
”ایک ثبوت یہ ہے … مجھے پتا تھا تم ثبوت مانگو گی ۔“
پھر اس نے اپنا سیل فون نکالا اور زئی کی کنور زیشن اشنال کے سامنے رکھی۔ جسے پڑھتے اشنال کی آنکھوں میں آنسو کی جگہ پہلی بارخون دوڑا تھا۔
”مجھے لگتا ہے تمہارے سمجھنے کیلئے اتنا کافی ہے، وہ تمہیں منزل نہیں دے سکتا، اس کے پیچھے مت بھاگو۔زندگی کو سمجھ جاؤ اشنال اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہو جائے ۔ اپنا خیال رکھنا ، چلتی ہوں۔
تم اچھی لڑکی ہو، یقیناً میری بات سمجھ جاؤ گی ۔“
وہ خود تو چلی گئی مگر اشنال کو جھکڑوں کی زد میں لاگئی۔
کیا تھی اشنال کی اوقات ……
کسی کی اترن کو پہننے والی …..
وہ دو منٹوں میں اشنال کو اس کی اوقات یاد دلا گئی تھی …
زئی کی وقت گزاری کا سامان …
زئی کے پارٹ ٹائم کا شغل ..
اشنال کی محبت زئی کے دھوکے کی زد میں آگئی …
اس بارسب کچھ ختم ہوگیا تھا
─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

رات میں زئی کا ٹیکسٹ آیا …
”موڈ پھر بدلنے لگا ہے تمہارا ، ایشے؟“
” پیاری ہے تمہاری منگیتر ۔“
”اوہ تو وہ تم سے ملنے آئی تھی ۔“ شاید وہ سمجھ چکا تھا…
”تمہیں یاد ہے زئی ایک بار میں نے پہلے بھی تم سے کہا تھا کہ اگر ایسا کچھ ہے تو تم مجھے بتادو ابھی سے ۔
تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ز ئی ؟“
اسکرین پر گرتے آنسو اسے ٹیکسٹ لکھنے اور میسج پڑھنے سے روک رہے تھے …
”ایشے ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تمہیں بتایا گیا ہے۔“
”پھر کیسا ہے زئی ؟ تم مجھے بتا دو کہ کیسا ہے؟“
” میں تمہیں نہیں بتا سکتا، نا میں تمہیں بتاؤں گا۔ آہ۔ تم مجھ پر شک کر رہی ہو؟“
”نہیں زئی ، جہاں حقیقت سامنے آ جائے شکوک وہیں دم توڑ جاتے ہیں۔“
”او کے فائن ، تو تمہیں جانا ہے،ٹھیک؟“
”اپنا خیال رکھنا، دعا ہے ہمیشہ خوش رہو۔“
”ایسے پاگل مت بنو، میں تم سے محبت کرتا ہوں کسی ایکس وائے زیڈ سے نہیں …
”بس کرو زئی ، اور کتنا شرمندہ کرو گے محبت کو؟“
”بکواس بند کرو ایشے تمہیں حقیقت نہیں پتا۔“
” تو تم مجھے حقیقت بتاؤ نا زئی ، کیوں مجھے سولی پر لٹکا رکھا ہے؟“
”میں تمہیں نہیں بتا سکتا، بس اتنا کہہ رہا ہوں مجھ پر ٹرسٹ کرو۔“
وہ ہنسی۔
”ٹرسٹ کیلئے کچھ چھوڑا ہی نہیں تم نے۔“
” تمہارا جانا میرے لئے کوئی ایشو نہیں ہے، تم نے جانا ہے جاؤ، میں نہیں روکوں گا، میں تنگ آ گیا ہوں تمہاری روز روز کی لڑائیوں سے … اچھا ہے جاؤ گی تو سکون میں رہونگا …“
محبت ایسا بھی حال کرتی ہے کہ پھول لہجے شعلے بن جاتے ہیں..
”میرے آنسو قرض ہیں تم پر زئی …“
”کیسے آنسو، نامحرم کے آنسو، ایک چیز سرے سے ہے ہی غلط اس کا کیا گناہ کیا ثواب…
جاؤ اور اس بار واپس نا آنا ……“
وہ اچھا لڑکا
جو ایک عرصے تک
ایک غیر محرم لڑکی سے
اپنی بے پناہ محبتوں کا
دعٰوی کرتا رہا ہے
آج اس لڑکی کو
ایک ”اچھی بات “ بتارہا ہے
کہ
”اچھی لڑکیاں“ کسی غیر محرم سے
محبت نہیں کیا کرتیں ….
کتنی آسانی سے وہ سارے گناہ اشنال کے سر تھوپ گیا تھا…..
کتنی آسانی سے گنہگار ٹھہرا بیٹھا تھا۔
کیا وہ واقعی اکیلی گنہگار تھی ؟ کیا زئی اس کے ساتھ اس گناہ میں شریک نہیں تھا؟ یا کیا وہ سب زئی کیلئے جائز تھا؟
کیا نا محرم محبت کا گناہ عورت کے کھاتے میں ہی لکھا جاتا ہے؟ کیا مرد واقعی بر الذمہ ہوتا ہے؟
کئی سوال تھے اس کے پاس مگر سننے احتساب کرنے والا کوئی نہیں تھا…..
مگر پہل اس نے کی تھی … سو اس نے مان لیا تھا وہ ایک بری خراب اور گنہگارلڑکی ہے۔
اس رات وہ دیواروں سے ٹکریں مار مار روئی تھی ، ساری رات وہ اتنا روئی کے اس کی آنکھیں سوجھ گئیں، اس کا گلہ بیٹھ گیا….
اس رات اور اس سے آگے آنے والی کئی راتیں وہ سو نہیں سکی تھی۔

وہ کہہ رہا ہے مالا تیری سوچ ہی غلط ہے
میں نے اسی کو سوچا یعنی کہ وہ غلط تھا؟

─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

وہ زندگی سے تنگ آگئی تھی ، وہ فرار چاہتی تھی ،مرنے کی دعائیں مانگتی تھی مگر موت مانگنے والے کو موت نہیں ملتی اور زندگی مانگنے والے کو جینا نصیب نہیں ہوتا …
رمضان کا آخری روزہ تھا، بابا کی طبیعت آج پھر بگڑ گئی تھی۔ ہاسپٹل سے واپسی پر بستر پر لیٹے بابا نے اسے پکارا۔
”ایشے پتری“
”جی بابا۔“
”پتری ایبٹ آباد چلیں؟“
”بابا۔۔؟“
”میں اس شہر میں نہیں مرنا چاہتا، میں چاہتا ہوں مرنے کے بعد مجھے ایبٹ آباد کی زمین نصیب ہو ۔“
”استغفر اللہ بابا کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ؟ کچھ نہیں ہو گا آپ کو ، دیکھنا بھلے چنگے ہو جائیںگے آپ ۔“ وہ انہیں حوصلہ دینے لگی …
ایک ساتھ کئی دکھوں نے اسے آگھیرا تھا…
تھکا دیا تھا زندگی نے اسے…
حقیقت تو یہ تھی کہ وہ خود بھی اس شہر سے دور جانا چاہتی تھی ، اس شہر میں زئی کی خوشبو سے تنگ کرتی تھی۔
اس کے بائیک کی آواز پچھلے ہوئے سیسے کی طرح محسوس ہوتی۔
وہ اس شہر میں میرے لئے آتا ہے، یہ جملہ اسے رات میں سونے نہیں دیتا تھا۔
اس نے سنا تھا، جس محبت کا آغاز اور اظہار عورت کی طرف سے ہو اس محبت کی کوئی اوقات کوئی
منزل نہیں ہوتی …
واقعی وہ مان گئی تھی ، اور پھر جب آغاز اور اظہار میں پہل اس نے کی تھی تو اب محبت کا انجام بھی
اسے ہی کرنا تھا۔
رشتوں میں دوری تو وہ کر چکا ، اب بس راستوں میں دوری باقی تھی …
وہ باپ بیٹی دونوں فرار چاہتے تھے، مگر شہر بدلنے سے دلوں پر چھائے بوجھ کہاں کم ہوتے ہیں۔
فرارصرف ایک ہی صورت ممکن ہے اور وہ تھی موت…..
اور دونوں میں سے کسی ایک کو نصیب ہونی تھی…
پراپرٹی ڈیلر کے ہاتھ گھر بیچ کر انہوں نے باقی کا قرض ادا کر دیا تھا ۔عیدالفطر کے پانچویں روز انہوں نے اپنے اس گھر کو آخری بار نظروں میں بھرا اور ٹرین کے ذریعے ایبٹ آباد کیلئے نکلے ۔
جاری ہے ….

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top