Pagal Ankhon Wali Larki - Episode 7
Written by Eshnal Syed
بارات کے بعد گھر پہنچ کر وہ سونے لیٹی تو اسے زئی کا ٹیکسٹ آیا…
”نیا بوائے فرینڈ مبارک ہو اشنال عبداللہ….“
اجنبی پن کی انتہا پر وہ اس کا پورا نام لیتا تھا۔
” تکلیف تو ہوئی ہوگی نا، میرا بھی سانس ایسے ہی رکتا تھا، جب میں تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھتی تھی ۔“ وہ مسکرائی۔
”نہیں مجھے بالکل بھی تکلیف نہیں ہوئی، میری نظروں سے گر چکی ہو تم ، میں تمہارے لئے کچھ فیل نہیں کر رہا، اچھا برا کچھ نہیں انجوائے کرو۔“
زئی کے اجنبی رویے سے اسے پہلی بار احساس ہوا اس نے کتنی بڑی غلطی کر دی تھی۔
مرد خود چاہے کتنی عورتوں کے ساتھ رات بسر کر آئے مگر عورت کی ایک نظر کسی اور کیلئے برداشت نہیں کر سکتا۔
عورت کو مرد کے ساتھ مقابلہ کرنا مہنگا پڑتا ہے۔
”میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، میں نے یہ سب صرف تمہیں دکھانے کیلئے کیا تھا۔“
”ہاہاہا۔“ وہ ہنسا۔
”ڈرامے بازلڑ کی ، میرے منہ پہ کھڑے ہو کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک لڑکے کے ساتھ گیے مار کر ہنس رہی تھی ، اور مجھے کہ رہی ہو تمہیں دکھانے کو کیا تھا۔ زکی اس وقت اس جگہ کھڑے کھڑے مر گیا تھا ایشے۔
اب میرے دل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں رہی تم میرے لئے باقی ساری لڑکیوں کی طرح ہوگئی ہو جو کسی سے بھی بات کر لیتی ہیں۔“
اشنال نے اسے کال کی جو اس نے کاٹ دی۔
”میں کال نہیں اٹھاؤں گا کہ تمہاری آواز سن کر میرا غصہ کم ہو جاتا ہے۔ جو غلطی تم کر چکی ہو، اس کے بعد یہی ٹھیک ہے کہ تم آئندہ مجھے ٹیکسٹ نا کرو ۔“
”تم…. تم بھی تو یہی سب کرتے تھے، تم نے سوچا میں کیسے برداشت کرتی تھی؟“
”میں تو مرد ہوں نا، کر سکتا ہوں۔ بات ہی تو کرتا تھا نا، کونسا کوئی ریلیشن تھا میرا کسی سے، تم اپنے لڑکی ہونے کا ہی خیال کر لیتی ۔“
”زئی میں…“
” بس مجھے کچھ نہیں سنا ..“
اور وہ واقعی گر چکی تھی ، زکی کی نظروں میں ، اپنی نظروں میں…
ہمارے معاشرے کے کچھ لوگوں نے مرد کو یہ کہہ کر شیر بنا دیا ہے، کہ وہ مرد ہے سب کر سکتا ہے۔ دنیا والے بھی مرد کے غلط کاموں کو یہ کہہ کر ڈھانپ لیتے ہیں کہ مرد تو کر سکتا ہے۔ جو کام مرد کرتے ہوئے عزت برقرار رکھے ہوئے ہے عورت اس کا سوچ کر ہی بدکرار کہلائی جاتی ہے….
اس دنیا میں عورت اور مرد کے ایک جیسے جرائم کی سزا ایک سی نہیں ہے جانے کیوں؟
عورت کو ہر معاملے میں صبر کا کہا گیا ہے، لیکن جب اشنال عبد اللہ جیسی لڑکیاں صبر نہیں کرتیں بدلے پر اتر آتی ہیں نا تو پھر ان کا حال بھی اشنال عبد اللہ جیسا ہی ہوتا ہے۔
”زئی میں ایسی نہیں ہوں، میں نے صرف تمہیں وہ سب فیل کرانا چاہا تھا۔ آئی ایم سوری زئی مجھ سے غلطی ہوگئی … “
وہ اشنال عبد اللہ تھی ، بہت جلد ہار مان لیتی تھی۔
”افسوس اشنے میں تمہیں ایسا نہیں سمجھتا تھا۔“
اور وہ اسے کہتی ہی رہ گئی کہ زئی میں ایسی نہیں ہوں ۔
”میں تم سے محبت کرتا تھا کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، مجھے افسوس ہے کہ تم ایک اچھی لڑکی تھی مگر اب نہیں رہی ۔اس سب کے بعد میرا تم پر سے اعتبارختم ہو گیا ہے، اور جہاں اعتبار ہی نا ہو وہاں ساتھ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔
مجھے تو یہ سوچ سوچ ہول اٹھ رہے ہیں جانے کس حد تک تم دونوں کی اٹیچمنٹ رہی ہوگی ، آخر اس کے گھر بھی تو جاتی رہی ہوناں۔“
اشنال کو سانپ سونگھ گیا تھا …..
”نفرت ہورہی مجھے اپنے آپ سے کہ تم جیسی لڑکی سے محبت کی میں نے ۔ دفع ہو جاؤ میری نظروں سے، دوبارہ کبھی مت آنا …“
”ایسا مت کروزئی ، میں مرجاؤں گی۔“
”اس کے بعد تم مر ہی جاؤ تو اچھا ہے۔ میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا.. میرے سامنے مت آنا دوباره…“
اور اشنال عبد اللہ کو ایک مرد سے انتقام لینا بہت بھاری پڑا تھا، زخم بہت گہرا تھا، بہت گہرا …
ہم لڑکیوں کو حدیں پار کرنا مہنگا پڑتا ہے
”نیا بوائے فرینڈ مبارک ہو اشنال عبداللہ….“
اجنبی پن کی انتہا پر وہ اس کا پورا نام لیتا تھا۔
” تکلیف تو ہوئی ہوگی نا، میرا بھی سانس ایسے ہی رکتا تھا، جب میں تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھتی تھی ۔“ وہ مسکرائی۔
”نہیں مجھے بالکل بھی تکلیف نہیں ہوئی، میری نظروں سے گر چکی ہو تم ، میں تمہارے لئے کچھ فیل نہیں کر رہا، اچھا برا کچھ نہیں انجوائے کرو۔“
زئی کے اجنبی رویے سے اسے پہلی بار احساس ہوا اس نے کتنی بڑی غلطی کر دی تھی۔
مرد خود چاہے کتنی عورتوں کے ساتھ رات بسر کر آئے مگر عورت کی ایک نظر کسی اور کیلئے برداشت نہیں کر سکتا۔
عورت کو مرد کے ساتھ مقابلہ کرنا مہنگا پڑتا ہے۔
”میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، میں نے یہ سب صرف تمہیں دکھانے کیلئے کیا تھا۔“
”ہاہاہا۔“ وہ ہنسا۔
”ڈرامے بازلڑ کی ، میرے منہ پہ کھڑے ہو کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک لڑکے کے ساتھ گیے مار کر ہنس رہی تھی ، اور مجھے کہ رہی ہو تمہیں دکھانے کو کیا تھا۔ زکی اس وقت اس جگہ کھڑے کھڑے مر گیا تھا ایشے۔
اب میرے دل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں رہی تم میرے لئے باقی ساری لڑکیوں کی طرح ہوگئی ہو جو کسی سے بھی بات کر لیتی ہیں۔“
اشنال نے اسے کال کی جو اس نے کاٹ دی۔
”میں کال نہیں اٹھاؤں گا کہ تمہاری آواز سن کر میرا غصہ کم ہو جاتا ہے۔ جو غلطی تم کر چکی ہو، اس کے بعد یہی ٹھیک ہے کہ تم آئندہ مجھے ٹیکسٹ نا کرو ۔“
”تم…. تم بھی تو یہی سب کرتے تھے، تم نے سوچا میں کیسے برداشت کرتی تھی؟“
”میں تو مرد ہوں نا، کر سکتا ہوں۔ بات ہی تو کرتا تھا نا، کونسا کوئی ریلیشن تھا میرا کسی سے، تم اپنے لڑکی ہونے کا ہی خیال کر لیتی ۔“
”زئی میں…“
” بس مجھے کچھ نہیں سنا ..“
اور وہ واقعی گر چکی تھی ، زکی کی نظروں میں ، اپنی نظروں میں…
ہمارے معاشرے کے کچھ لوگوں نے مرد کو یہ کہہ کر شیر بنا دیا ہے، کہ وہ مرد ہے سب کر سکتا ہے۔ دنیا والے بھی مرد کے غلط کاموں کو یہ کہہ کر ڈھانپ لیتے ہیں کہ مرد تو کر سکتا ہے۔ جو کام مرد کرتے ہوئے عزت برقرار رکھے ہوئے ہے عورت اس کا سوچ کر ہی بدکرار کہلائی جاتی ہے….
اس دنیا میں عورت اور مرد کے ایک جیسے جرائم کی سزا ایک سی نہیں ہے جانے کیوں؟
عورت کو ہر معاملے میں صبر کا کہا گیا ہے، لیکن جب اشنال عبد اللہ جیسی لڑکیاں صبر نہیں کرتیں بدلے پر اتر آتی ہیں نا تو پھر ان کا حال بھی اشنال عبد اللہ جیسا ہی ہوتا ہے۔
”زئی میں ایسی نہیں ہوں، میں نے صرف تمہیں وہ سب فیل کرانا چاہا تھا۔ آئی ایم سوری زئی مجھ سے غلطی ہوگئی … “
وہ اشنال عبد اللہ تھی ، بہت جلد ہار مان لیتی تھی۔
”افسوس اشنے میں تمہیں ایسا نہیں سمجھتا تھا۔“
اور وہ اسے کہتی ہی رہ گئی کہ زئی میں ایسی نہیں ہوں ۔
”میں تم سے محبت کرتا تھا کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، مجھے افسوس ہے کہ تم ایک اچھی لڑکی تھی مگر اب نہیں رہی ۔اس سب کے بعد میرا تم پر سے اعتبارختم ہو گیا ہے، اور جہاں اعتبار ہی نا ہو وہاں ساتھ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔
مجھے تو یہ سوچ سوچ ہول اٹھ رہے ہیں جانے کس حد تک تم دونوں کی اٹیچمنٹ رہی ہوگی ، آخر اس کے گھر بھی تو جاتی رہی ہوناں۔“
اشنال کو سانپ سونگھ گیا تھا …..
”نفرت ہورہی مجھے اپنے آپ سے کہ تم جیسی لڑکی سے محبت کی میں نے ۔ دفع ہو جاؤ میری نظروں سے، دوبارہ کبھی مت آنا …“
”ایسا مت کروزئی ، میں مرجاؤں گی۔“
”اس کے بعد تم مر ہی جاؤ تو اچھا ہے۔ میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا.. میرے سامنے مت آنا دوباره…“
اور اشنال عبد اللہ کو ایک مرد سے انتقام لینا بہت بھاری پڑا تھا، زخم بہت گہرا تھا، بہت گہرا …
ہم لڑکیوں کو حدیں پار کرنا مہنگا پڑتا ہے
─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───
دو مہینے دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی، دونوں اپنی اپنی جگہ ناراض تھے، دونوں ہی ضدی اور انا پرست تھے …
ان دو مہینوں میں وہ نچڑ گئی تھی، گلابی مائل رنگت کملا کر رہ گئی تھی۔
یہ کیسی بددعا تھی جو اسے لگی تھی کہ زئی نام کا آسیب اس کے حواسوں سے بچھو کی طرح چمٹ گیا تھا، وہ اسے سوچتی اور اتنا سوچتی کہ اس کے پاس کچھ اور سوچنے کا وقت ہی نہیں رہتا، وہ بھول گئی تھی کہ اس کی زندگی میں کچھ لوگ زئی کے علاوہ بھی ہیں جنہیں اسے دیکھا تھا …
ان دو مہینوں میں ہر رات وہ روتے روتے سوتی ، یہ تو طے تھا وہ زئی کو بھول نہیں سکتی تھی ..
اسے بخار اٹھا جو بڑھتے بڑھتے ٹائیفائیڈ کی شکل اختیار کر گیا، آئے دن ہاسپٹل کے چکر لگاتے راستے میں اسے دو تین بار زئی نے بھی دیکھا تھا مگر ایک بار بھی اسکا حال پوچھنے کو ٹیکسٹ نہیں کیا۔ پندرہ دن وہ ٹائیفائیڈ میں جھلستی رہی ، اس نے نہیں آنا تھا وہ نہیں آیا …
دو مہینے اور تیرہ دن بعد بالآخر اسے زئی کا میسج آہی گیا …
”کال می ایشے۔“
اس انجانی خوشی میں وہ اسکرین کو حیرت سے تکتی ، آنسو بہتے اسکرین دھندلا جاتی ، آنسو پونچھتی پھر دیکھتی ، وہ زئی ہی تھا بلا شبہ۔۔
”ایشے میری جان میں غصے میں تھا۔ آئی ایم سوری ، مجھے یقین ہے تم ایسی نہیں ہو ، بس مجھے غصہ آ گیا تھا، واپس آجاؤ، میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، میں نے غصے میں بکواس کر دی تھی ، واپس آ جاؤ پلیز، تم جیسا کہوگی میں ویسا بن جاؤں گا .. بس مجھ پر ٹرسٹ کرو۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں، خدا کی قسم ایشے، میری لائف میں کوئی اور نہیں سوائے تمہارے، پلیز
کم بیک …
آئی وانٹ یوٹو اسٹے ان مائی لائف …“
وہ مان گئی تھی ، کیونکہ وہ زئی کے علاوہ کچھ سوچ نہیں سکتی تھی ۔ محبت سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج کر دیتی ہے …
اور یوں وہ ایک بار پھر سے مل گئے تھے …
مگر شاید ہمیشہ پچھڑنے کیلئے
─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───
وہ واپس تو لوٹ آیا تھا مگر فری ٹھیک کہتی تھی ، وہ بدل نہیں سکتا تھا، اور اب اشنال نے ہی خود کو بدلنا تھا ۔
خود کو بدلنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے، وہ خود کو بدلنے کی کوشش میں تھی۔
زئی کے پاس اس کیلئے وقت ہی نہیں تھا، وہ ڈھیروں میسجز کرتی جس پر ایک ہی جواب آتا ابھی بزی ہوں کام پر ہوں گھر جا کر کال کرتا ہوں۔
صبح سے شام انتظار کرتے کرتے رات آتی تو کہہ دیتا نیٹ پرابلم ہے سگنل نہیں آرہے، جس کا فون ٹوئنی فورآرز اس کے ہاتھ میں رہے اور وہ پھر بھی رپلائے نا کرے تو سمجھ جائیں اس کی لائف میں آپ کی حیثیت صفر ہو کر رہ گئی ہے۔
یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے، جس مرد کے دل میں چور ہوتا ہے نا وہ اس عورت سے دور بھاگنے لگتا ہے جو اسے حج کر لیتی ہے….
وہ اسے یہ نہیں کہتا تھا کہ اسے محبت نہیں ہے، وہ اسے عملاً بتا تا تھا کہ اسے کچھ بھی نہیں رہا، یا شاید کچھ تھا ہی نہیں …
اور اشنال ایک ذہین لڑکی تھی ، وہ زئی کو سمجھ چکی تھی۔
اب اس کے افئیرز وہ اگنور کر دیتی، بلکہ اب وہ اسے کسی کے ساتھ دیکھتی بھی تو مسکرا دیتی۔
وہ اس سے محبت نہیں مانگتی تھی ، وہ اب اس سے وقت بھی نہیں مانگتی تھی ، بلکہ اس نے زئی سے کچھ مانگنا ہی چھوڑ دیا تھا۔
وہ تو صرف اپنے لئے اس کے پاس جاتی تھی، کیونکہ وہ کسی اور کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔ اسے اس بات سے غرض نہیں رہی تھی کہ زئی کتنی لڑکیوں میں انٹرسٹڈ ہے یا پھر زئی اس سے محبت نہیں کرتا، اس کیلئے یہ کافی تھا کہ وہ زئی سے محبت کرتی ہے، اور کبھی کبھی ہم اس نہج پر پہنچ ، بات ہو نا ہو ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کی موجودگی ہی کافی ہوتی ہے ۔
اس بات کو بھی زئی نے غلط وے میں لیا تھا اور کہا تھا..
”تمہیں محبت نہیں رہی، تم بس فرض نبھارہی ہو ۔ “
وہ تھک کر مسکرا دیتی۔ کہ آخر وہ کرے تو کیا کرے؟ جب وہ محبت لٹاتی تھی تب اسے نظر نہیں آتا تھا تب بھی وہ ویسا ہی تھا۔
اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ ایسا کیا کرے کہ زئی اس سے سیٹسفائیڈ ہو جائے … مگر شاید دل کے تخت پر جب ایک عکس چھا جائے تو باقی کا ہر فرد بے معنی ہو جاتا ہے۔
اور زئی کے دل پر جو بھی تھا اشنال عبداللہ نہیں تھی … اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی۔
وہ روز لڑتے چھوٹی چھوٹی باتوں پر … یونہی خفا راضی رہنے میں وقت گزرنے لگا تھا ۔
جاری ہے…