Pagal Ankhon Wali Larki - Episode 6

Written by Eshnal Syed

عشاءکی نماز اس نے جس خاموشی سے پڑھی، اسی خاموشی سے بنا دعا مانگے منہ پر ہاتھ پھیرے اٹھ کھڑی ہوئی۔
شاید وہ پاگل،خدا کو بتانا چاہ رہی تھی کہ میں ناراض ہوں، حالانکہ وہ تو خود اپنے خدا کو ناراض کر بیٹھی تھی، اور جب ناراض ہوتا ہے تو وہ ہمیں کھلی چھوٹ دے دیتا ہے۔
رات نو بجے اسے زئی کی کال آئی۔
“خیریت تھی، ہاسپٹل کیوں آئیں؟”
“امی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔”
“اوہ خیال رکھو امی کا۔”
“ہممممممممم”
پھر وہ خود بولا۔
“ناراض ہو؟”
“کس لئے؟”
“وہ شام کو وہ لڑکی……… یار میں تمہیں بتانا چاہتا تھا مگر تم ایبٹ آباد میں تھی اور میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔”
وہ خاموش رہی۔
“میری بائیک کا مائینر ساایکسیڈنٹ ہو گیا تھا چورنگی پر، میری ٹانگ اور بازو پر موچ آئی تھی، یہ لڑکی عروسہ اپنے کزن کے ساتھ مجھے ہاسپٹل لے کر گئی تھی۔”
اشنال نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ پھر بولا۔
“بس اسلئے اسے یہاں دیکھ کر میں نے اس سے بات کرلی۔ یقین کرو میرا اس سے اور کوئی تعلق نہیں،اب کوئی ہماری مدد کرے تو اس کا شکریہ تو ادا کرنا ہوتا ہے نا۔”
اور اشنال یہ سوچنے لگی کہ یہ شکریہ کا کونسا طریقہ تھا۔
” ایشے ایسے مت کرو۔”
“کیا کیا ہے؟”
“خاموش مت رہو غصہ کرو مجھ پر۔”
“نہیں غصہ کیسا؟ تم نے بتادیا سچ، ٹھیک ہے سب۔”
“ایشے مجھ پر بھروسہ رکھو، زئی صرف تمہارا ہے۔”
“ہممممم…زئی مجھے نیند آرہی ہےکل بات کریں ؟”
“ناراض تو نہیں ہونا؟”
“نہیں۔”
“لو یو میری جان۔”
زئی کا فیک لاڈ اس کی آنکھوں کو گیلا کر گیا۔
“ٹیک کئیر۔”
فون بند کرکے اس نے سونے کیلئے آنکھیں بند کیں تو سیل پھر سے روشن ہوا، وہ سمجھی شاید زئی ہوگا مگر میسج تو زئی کا نہیں تھا مگر اس کے متعلق تھا۔
کسی unknown نمبر سے اسے زئی کی کنورزیشن کے سکرین شاٹ موصول ہوئے تھے، وہ جو سوچے ہوئے تھی کہ تازہ لگے زخم کو دھونا کیسے تھا اسے ایک اور گھاؤ پڑ گیا۔
زخم پر زخم لگے تو اذیت ناچ اٹھتی ہے۔
کاش محبت سے پہلے اذیت کا تحمینہ لگایا جاسکتا تو ہم اپنے حصے کی اذیت جان کر محبت ہی چھوڑ دیتے، کہ اذیت جھیلنا ہمارے بس میں نہیں۔
وہ نہیں جانتی تھی کس طرح اس نے وہ کنورزیشن پڑھی تھی، کس طرح وہ سانس لے رہی تھی۔
“تمہیں مجھ سے محبت ہے ناں تو پھر یہ اشنال عبداللہ کون ہے؟”
کون اشنال عبداللہ؟” اسکا زئی کہہ رہا تھا، کون اشنال…؟
کون اشنال…؟
اسے لگا کسی نے اسے تیز گام کے نیچے کچل دیا ہو
“جان کیوں تم پرائی لڑکی کو بیچ میں لا کر ٹائم اور موڈ دونوں خراب کر رہی ہو؟”
اس کا زئی کہہ رہا تھا اسے پرائی لڑکی
،وہ لڑکی جسے تم نے محبت میں اندھا کر دیا
،جسےدن رات محبت کے کلمے پڑھائے
،جسے اپنے سوا ساری دنیا سے کٹ کر دیا
جسے اس مقام تک لے گئے جہاں اسے زئی کے سوا کوئی دیکھائی ہی نہیں دیتا
جسے اللہ اور رسول کی جھوٹی قسمیں کھا کر محبت کا یقین دلایا
،جسے رات بھر جگا کر محبت کے سور پھونکتے رہے
،جسے سکھایا کہ محبت میں کوئی تیسرا نہیں ہوتا
، محبت میں کبھی ناں نہیں ہوتی
،محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے
،محبت کہہ دے کہ جل جاؤ تو جل جانا ہوتا ہے
محبت کہے تو روتی آنکھوں اور ٹوٹے دل کے پرزوں سمیت مسکرانا ہوتا ہے
محبت کہے انا کو مار دینا ہوتا ہے
محبت جو سکھائے اسے کسی صحیفے کی طرح حفظ کرنا ہوتا ہے
اور جب وہ سب کچھ سیکھ گئی، تو اسے پرائی کہہ دیا
اشنال عبداللہ جسے میری زندگی میری دنیا کہا گیا تھا حقیقت میں وہ ایک پرائی لڑکی تھی
روتے روتے اس کی ٹانگوں سے جان نکلتی گئی، واش روم کے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھی وہ سسکیوں سے روئی، کانپتے ہاتھوں سے وہ کبھی اپنی سسکیوں کو روکتی، کبھی دیوار کے ساتھ ٹکریں مارتی وہ پاگل ہو چکی تھی
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے محبت وہ چڑیل، وہ ڈائن ہے، جو اپنی نارسازی کا انتقام لینے، ہر شخص پر اترتی ہے، جو آتی ہے ہمیں برباد کر کے چلی جاتی ہے
یہ سلسلہ ختم کیوں نہیں ہوتا؟ کوئی روکے محبت کو، کتنے دل اجاڑ گئی ہے
ساری رات وہ روتی رہی۔ محبت میں ہمارا دل کبھی اتنا وسیع نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے اپنے زئی کو ہر کسی کے ساتھ شئیر کر سکیں۔
یہ سوچ کر وہ زئی کیلئے پرائی ہے ایسے تھی جیسے کسی نے اسکی انگلی کا ناخن کھینچ کر نکالا ہو
اور اگر زئی سے پوچھا جاتا تو وہ مانتا ہی نہیں کہ اس نے بات کہی ہے، مان بھی لیتا تو دلیلیں بہت تھیں
وہ ایسا ہی تھا پل بھر میں مکر جانے والا، جھکنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔
نیند ایسے روٹھی جیسے کسی نے اس کی اوپر نیچے کی پلکوں کو دور لے جا کر رسیوں سے باندھ دیا ہو، ساری رات گرم سیال آنکھوں سے نکل کر تکیے پر نشان بناتا رہا۔
ان کے تعلق میں یہ پہلی رات تھی کہ وہ ساری رات سو نا سکی
آنسو دریا کے کسی ٹوٹے بند کی طرح بہتے رہے، گرم آنسو سوجن زدہ سرخ آنکھوں سے نکل کر اب تو آنکھوں کو بھی تکلیف دینے لگے تھے
آنکھوں کے آس پاس کی جگہ پر اونچے پہاڑ بن چکے تھے ہاں مگر یہ پہاڑ نرم تھے
تہجد کا وقت آیا، گزر گیا۔ وہ بےحس لیٹی روتی رہی، پھر اس کے کان میں فجر کی اذان پڑی۔
آنکھوں کو بند کرنے میں اسے اذیت ہوتی ،کچھ دیر بند آنکھوں کے ساتھ اذان سنتی رہی پھر نماز کیلئے اٹھ بیٹھی
کچھ بھی تھا لیکن وہ نماز کی پابند تھی
مگر ایسی نمازوں کا کیا جس میں زبان تو پڑھےمگر دماغ سن نا سکے، دل محسوس نا کر پائے

─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

پاگل صرف پاگل خانوں میں ہی نہیں ہوتے، ہمارے تمہارے گھروں میں بھی ہوتے ہیں۔ محبت پاگل کر دیتی ہے، کبھی ہم روتے ہیں کبھی قہقہے لگاتے ہیں۔
پاگل خانوں میں موجود پاگل تو خوش نصیب ہیں جنہیں صرف ماضی میں رکھ کر حال اور مستقبل سے بچا لیا گیا ہے۔ گھروں میں موجود پاگل ماضی، حال مستقبل کے دہرے عذاب میں ہیں۔
پاگل تو ہم سے اچھے ہیں، اپنی مرضی سے کھل کر ہنس یا رو تو سکتے ہیں، ہم جیسے پاگل ہنسیں تو نخوت سے دیکھا جاتا ہے، روئیں تو لعنتیں دی جاتی ہیں
ہم ہنسیں تو پوچھ گچھ، روئیں تو باز پرس
کیا تم سمجھ سکتے ہو اس انسان کا دکھ ھو پاگل بھی نا ہو، اور ہوش میں بھی نا رہ پائے….؟؟
زیادتیاں جب حد سے بڑھ جائیں تو برداشت ختم ہونے لگتی ہے، اشنال کی برداشت بھی جواب دے گئی تھی
روز روز ایک نیا افیئر……..وہ بکھرنے لگی تھی۔
وہ اپنی معمولی چیزیں شئیر نہیں کرتی تھی، زئی تو پھر جیتا جاگتا انسان تھا۔
وہ زئی کو شئیر نہیں کر سکتی تھی، کسی کے ساتھ بھی نہیں، کسی حال میں بھی نہیں۔
جو تکلیف وہ خود محسوس کرتی تھی،اس نے سوچا ایک بار زئی بھی محسوس کرے کہ اپنی محبت کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا سانس رک جانے جیسا ہوتا ہے۔
…پھر اس نے جو سوچا وہ کر دکھایا

آج فروا کی مایوں تھی، وہ شام پانچ بجے ہی فروا کے گھر چلی آئی تھی، اور اب رات کے دس بج رہے تھے۔
دلہا والوں نے رسم کرنے آنا تھا، اشنال نے دلہن کی بیسٹ فرینڈ ہونے کی حیثیت سے خوب تیاری کر رکھی، ہاف وائٹ شیفون کے لہنگے پر گولڈن ستاروں والا بلاؤز جو اس کی کمر کو کور کئے ہوئے تھا، ہاف وائٹ نیٹ کے دوپٹے کو شانوں پر سلیقے سے پھیلایا ہوا تھا، دوپٹےکے چاروں اطراف لیس لگی ہوئی تھی، کلائی پر چھن چھن کرتی چوڑیاں اور گجرے سجے تھے، بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنا تھا، ماتھے پر گول سا ٹیکا سجا تھا، کانوں میں بڑے آویزے پہنے تھے، ناک میں چمکتی نوز رنگ، لائٹ سا میک اپ کئے بلاشبہ وہ آج ویسی بن کر آئی تھی جسے زئی اسے دیکھنا چاہتا تھا۔
فروا کے بڑے بھائی سے زئی کی دوستی بہرحال تھی، وہ بس اس کے چھوٹے بھائی یاسر سے چڑتا تھا۔
ہاتھوں میں کیمرہ لئے وہ فروا کے بھائی یاسر کے پاس آئی، جو اس وقت اسٹیج کی ڈیکوریشن میں لگا تھا۔
اشنال نے مخاطب کیا اور اس سے کچھ پوچھنے لگی، وہ اسے کیمرا فنکشنز سمجھا رہا تھا۔ عین اسی وقت ہال میں زئی انٹر ہوا، اس کے ہاتھ میں گیندے کے پھولوں کا ٹوکرا تھا۔
اشنال کو یاسر کے پاس کھڑا دیکھ کر زئی کو آگ لگ گئی، اس نے ٹوکرا زمین پر پھینکا تو کچھ پھول اچھل کر زمین پر بکھر گئے، جیسے اس وقت یقیناً زئی کے دل کے پرزے بکھرے تھے۔
وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھتا الٹے قدموں پیچھے ہٹا، اشنال نے ایک نظر زئی کو دیکھا اور پھر یاسر کو، دلکشی سے مسکرا کر وہ واپس گھر کے اندرونی جانب پلٹ گئی
زئی کے اندر خاندانی خون کھولنے لگا، اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں، ایک جھٹکے سے ہال کا پردہ اٹھا کر باہر نکل گیا
اشنال کے اندر ڈھیروں سکون اتر آیا۔ آخر اس نے تمام تر زیادتیوں کا بدلہ ایک ہی وار میں لے لیا تھا، شاید وہ اسے دکھانا چاہ رہی تھی کہ اپنی شے کو شئیر کرنا کتنا تکلیف دیتا ہے۔ وہ اسے دکھانا چاہ رہی تھی کہ جب وہ زئی کو کسی اور کے ساتھ دیکھتی اس سے بھی کئی زیادہ بری حالت میں ہوتی، مگر وہ بھول گئی، کچھ لوگ ہماری طرف سے کسی غلطی کے انتظار میں ہی ہوتے ہیں
عورت کو ایسی غلطیاں مہنگی پڑ جاتی ہیں۔
اشنال نے ایسا کرکے بہت بڑی غلطی کردی تھی، اس نے اپنے کردار پر کالک مل دی تھی۔
عورت مرد کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتی ہے مگر مرد ایک ذرہ سی غلطی پر اسے بدکردار قرار دے کر دھتکار دیتا ہے اور پلٹ کر نہیں دیکھتا
وہ رات اشنال نے فروا کے گھر گزاری تھی، وہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی اور فروا کا یہاں آخری دن تھا، اگلے دن اسے یہاں سے چلے جانا تھا۔ آج کا دن اسے فروا کے نام کرنا تھا
مہندی کا فنکشن رات ڈیڑھ بجے کے قریب ختم ہوا تو ساری سہیلیاں فروا کو لے کر اس کے روم میں آ گئی، جہاں انہوں نے رتجگا منانا تھا۔ ڈانس کا ماحول فل آن تھا، فروا کی بیسٹ فرینڈ ہونے کے ناطے ساری لڑکیوں نے اصرار کیا کہ اب وہ حق ادا کرے، فروا کے اصرار پر اس نے بھی رقص کیا
خوبصورت لہنگے میں دیوانی پر رقص کرتی وہ بلاشبہ دیوانی لگ رہی تھی۔
زخم ایسا تونے لگایا، دیوانی دیوانی دیوانی
دیوانی ہو گئی۔
مرہم ایسا تو نے لگایا، روحانی روحانی روحانی
روحانی ہوگئی۔
اس کا انگ انگ سرور میں تھا، وہ زئی کو ہرا آئی تھی، رقص تو بنتا تھا۔
..پہچان میرے عشق کی اب تو
میں دیوانی ہا دیوانی دیوانی ہوگئی۔
اس کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے تھے، جو عورت مرد کو ہرانے کا سوچتی ہے ناں وہ خود ہار جاتی ہے۔
اشنال عبداللہ ہار گئی تھی، نا صرف اپنے زئی کو بلکہ وہ ایسی دیوانی تھی جو سب کچھ ہار گئی، سب کچھ اپنی انا، اپنی محبت،اپنے خواب، اپنی عزت، اپنا سکون اپنا…… سب کچھ۔
…جاری ہے


Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top