Pagal Ankhon Wali Larki - Episode 4

Written by Eshnal Syed

عشیہ کی شادی دسمبر میں طے پائی تھی، ۷ دسمبر کو عشیہ کی بارات کے ساتھ وہ ایبٹ آباد آئی تھی۔
ان دنوں زئی کو کوئٹہ گیا ہوا تھا، وہ کوئٹہ میں جا کر رابطے مختصر کر لیتا تھا، اس کے پاس مجبوری نام کی ایک لمبی لسٹ ہوتی تھی ولیمے کے بعد انہیں واپس کراچی جانا تھا، تو ایبٹ آباد گھومنے کی غرض سے وہ اپنی کزنز کے ساتھ شام پانچ بجے کے قریب گھر سے نکلی۔

─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

مری سے واپسی پر وہ چاروں دوست کچھ دیر ایبٹ آباد کے مقام پر ٹھہرے۔
ان میں سے تین سیلفیز لینے کیلئے ادھر ادھر ہوگئے، جبکہ وہ جیپ کے لیفٹ ڈور سے پشت لگا کر کھڑا ہو گیا، آنکھیں بند کیے خوشگوار ہوا میں سانس لینے لگا تھوڑی دیر میں اسے قریب سے کسی کے قدموں کا گمان گزرا۔
آنکھیں کھول کر اس نے سڑک کی سیدھ میں دیکھا ان میں سے چار سیدھا چلتی ہوئی آرہی تھیں، جبکہ میرون شال والی لڑکی الٹے قدموں پیچھے کی طرف چل رہی تھی۔ وہ اس کی طرف پیٹھ دیے چل رہی تھی، ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کیسے بنا لڑکھڑائے کوئی پیچھے چل سکتا ہے کہ اسے مدھم سی آواز سنائی دی۔
وہ کہہ رہی تھی
“یار ایبٹ آباد تو زندگی ہے۔”
پھر اس لڑکی نے اپنے دونوں بازو پھیلائے اور گول گول گھومنے لگی۔
وہ جب اس کی طرف پلٹتی تو اس کے نقاب والے چہرے پر وہ اس کی بند آنکھیں دیکھتا، وہ اس عجیب سی لڑکی کی عجیب سی حرکت پر مسکرایا۔ گلاسز اتار کر وہ دلچسپی سے اسے دیکھتے گیا۔
وہ بولی تو اس کی آواز میں دنیا جہان کی محبت آسمٹی تھی
میں صدقے، میں واری، میں قربان تم ایبٹ آبادیوں کے، اتنی صاف ستھری ہوا ہے، دل چاہتا ہے ایک لمبا سانس کھینچ کر ساری ہوا اپنے اندر بھر جاؤں۔
گول گول گھومتی وہ لڑکیوں کی طرف پلٹی، شاید اب وہ آنکھیں کھول چکی تھی۔
وہ کھلکھلائی… اس کی ہنسی ایسی تھی جیسے بارش کی بوندیں تلاب کے پانی سے ٹکرائیں… ایشے میں دعا کروں گی تمہاری شادی کسی ایبٹ آبادی سے ہو جائے۔
کسی لڑکی نے شرارت سے اسے چھڑا.. جس پر اس کی ہنسی یک لخت تھم گئی
وہ بولی تو اس کے لہجے میں خفگی در آئی، شاید اس نے گھوری بھی پائی تھی
اللہ نا کرے… ہاں لیکن میں اس کے ساتھ ایبٹ آباد ضرور آؤنگی۔
اب وہ شاید مسکرائی تھی۔
….اور باقی لڑکیوں نے ایک ساتھ “اووئییے” کی، سٹی بجائی، پھر وہ ہنسنے لگیں تھیں
!سید سکندر شاہ نے وہاں سے جاتے ہوئے دعا کی تھی کہ اس لڑکی کے خواب سلامت رہیں بیچنا پڑتی ہیں
…مگر
خوابوں کے تاوان میں اکثر
…آنکھیں بیچنا پڑتی ہیں

─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

ایبٹ آباد سے واپس آئے انہیں تین دن ہوچکے تھے، اسے زئی کا کچھ پتا نہیں تھا۔ ایبٹ آباد میں کیے جانے والے دو تین میسجز کے بعد اب تک اشنال نے بھی کوئی ٹیکسٹ نہیں کیا تھا وہ چاہتی تھی کہ زئی اس سے خود رابطہ کرے، وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ زئی کتنے دن اس سے بنا بات کیے رہ سکتا ہے
“کچھ پتا ہے زئی کے بارے میں اجکل کہاں ہوتا ہے” 
فروا اشنال سے ملنے اس کے گھر آئی ہوئی تھی، اور اس وقت دونوں چھت پر رکھے جھولے پر بیٹھی تھیں۔
“ہممممممم ہاں وہ فلحال تو کوئٹہ میں ہی ہے۔”
اشنال نے چائے کا کپ فروا کے آگے رکھا، اور خود آسمان میں اڑتے سفید کبوتروں کو دیکھنے لگی
اچھا! مطلب اس نے تمہیں اپنے آنے کی خبر نہیں دی۔
مطلب؟ اس نے چونک کر فروا کو دیکھا۔
زئی تقریباً ایک ہفتے سے کراچی میں ہے، بات نہیں ہوتی تم لوگوں کی؟
وہ خاموش رہی
“کیا تم دونوں کا بریک اپ ہو چکا ہے؟”
اللہ نا کرے… اشنال کو اس کی بات بری لگی۔
“شاید اس کی دلچسپی ختم ہو گئی ہے۔”
فروا نے چائے کا سپ لیا
“کیا کہنا چاہ رہی ہو تم؟”
تمہیں معلوم ہے کل شام میں میری کزن فائزہ، آسیہ لوگوں کا گروپ سیر سپاٹے کیلئے کلفٹن گیا تھا، انہوں نے ساتھ مجھے بھی گسیٹ لیا، مجھے نہیں معلوم تھا ان لوگوں نے وہاں اپنے اپنے بندے کو بھی بلایا ہوا تھا۔
وہاں تمہارا زئی بھی آیا تھا، جانتی ہو وہ وہاں کس کے لئے آیا تھا؟
“فائزہ سلیم کیلئے۔”
اشنال کو لگا چھت اس کے سر پر آ گئی ہو۔
وہ دونوں وہیں سے ہمارے گروپ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔
فائزہ کزن ہے میری، اس کا تو مجھے پتا ہے یہ اس کا کوئی نواں دسواں بوائے فرینڈ ہوگا۔ مگر زئی، میں زئی کو ایسا نہیں سمجھتی تھی۔
…جگنو یکدم بجھ گئے
وہ اشنال کی آنکھوں میں آنسوؤں کے ننھے ستارے دیکھ کر چل بھر کو رکی پھر بولی مگر کہتے ہیں نا مہندی کے رنگ اور مرد کی محبت کا کیا اعتبار۔ فروا کی مسکراہٹ میں تلخی تھی۔
اشنال کی لائف میں فروا ہی وہ واحد لڑکی تھی جس پر وہ اندھا اعتبار کرتی تھی اور فروا اشنال سے غلط بیانی کرے ہو ہی نہیں سکتا۔
“زئی ایسا نہیں کر سکتا، فری تمہیں غلط فہمی ہوئی۔”
“ایشے ہو سکتا ہے زئی ایسا نا ہو، مگر وہ واقعی زئی ہی تھا”
“زئی میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا۔”
اس کے اندر کا یقین مسکرایا
…جگنو پھر روشن ہوئے
اور محبت بینائی رکھنے والے کو اندھا کردیتی ہے۔
انسان سب جان کر بھی انجان بن جاتا ہے، وہ خود کو اس دھوکے کے آگے بچھا دیتا ہے، اور سب جانتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔
دماغ اگر کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کرے بھی تو دل اس کو غلط قرار دیتا ہے۔ اسے یقین تھا کہ اس کا زئی جھوٹ بول ہی نہیں سکتا تھا، مگر اندر ہی اندر یقین کی چڑیا بے یقینی کے سانپ سے خوفزدہ ہوگئی تھی۔

─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

رات نو بجے اشنال نے اسے ٹیکسٹ کیا
“فائزہ سلیم سے ڈیٹ کیسی رہی زئی؟”
“سوری، کون فائزہ سلیم؟”
بنجاروں کو منکر ہونے میں وقت کتنا لگتا ہے۔
جس طرح کسی کی باتوں سے کہا اندازہ ہوسکتا ہے کہ کس کے لفظ کتنے سچے ہیں
وہی فائزہ سلیم جس کے ساتھ تم کلفٹن کی سیریں کر کے آئے ہو۔
“میں اور ڈیٹ کیسی باتیں کرتی ہو؟”
“فری مجھ سے جھوٹ نہیں بولتی زئی۔”
“اوہ، تو تمہاری فروا نے کان بھرے ہیں تمہارے۔”
بہت معصوم ہو تم اشنال، اس کی انگلی پکڑ کر مت چلو، بھی دماغ استعمال کر لیا کرو۔
فری جھوٹ نہیں بولتی زئی۔” اس نے پھر زور دیا”
“اچھا تو تمہیں لگ رہا ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں؟”
“میں ایسا نہیں کہہ رہی، میں سچ جاننا چاہ رہی ہوں۔”
“تم مجھے بتاؤ، میں تمہیں جھوٹا لگتا ہوں؟”
“زئی میں نے سچ پوچھا ہے۔”
ہاں یا نہیں؟”وہ غصے میں تھا، وہ زئی کے غصے سے ڈرتی تھی۔”
“نہیں۔”
وہ جانتی تھی اس کی ہاں اسے زئی سے دور لے جائے گی، وہ زئی کو کھونا نہیں چاہتی تھی اس لیے فروا پر یقین رکھتے ہوئے بھی زئی کو جیت جانے دیا
“اب کیا سوچنے لگی؟”
میں سوچ رہی تھی، شکر ہے تمہارے ماموں کی بیٹیاں نہیں ہیں ورنہ میرا آدھا خون تو یہ سوچ سوچ خشک ہو جاتا کہ اس وقت کیا ہو رہا ہوگا، تو اس وقت کیا
وہ ہنسنے لگا
خوف اندر ہی اندر اپنے قدم جمانے لگا تھا۔
کہتے ہیں محبت کے بیچ شک کی دیوار ایک بار آجائے تو زندگی بھر نہیں جاتی۔
وہ اپنے اور زئی کے بیچ دیواروں سے ڈرتی تھی
اس لیے اس قصے کو یہیں ختم کر دیا

─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

آج سنڈے تھا، ٹیوشن آنے والے بچوں کی چھٹی تھی، اس نے سوچا کیوں نا آج گاجر کا حلوہ بنایا جائے،اسی غرض سے وہ کچن میں کھڑی تھی جب اسے زئی کی کال آئی۔ ہینڈ فری لگا کر اس نے سیل فون شیلف پر رکھا، کال ریسیو کرنے میں تھوڑی تاخیر ہوگئی تھی
“بزی ہو کیا؟”
“ہاں تھوڑی بہت”
“کیوں کیا کر رہی ہو؟”
“گاجر کا حلوہ بنا رہی ہوں۔”
“ہائے”
گاجر کا حلوہ میرا فیورٹ۔” زئی نے لبوں پر زبان پھیری۔”
وہ مسکرائی۔
“میرے لیے بھی بھیج دینا۔”
“بلکل بھی نہیں، آپ اپنی مامی سے کہیں وہ بنا کر دیں گی آپ کو۔”
زئی کا دل خراب ہو گیا
مامی کے ہاتھ سے بنا گاجر کا حلوہ ایک بار کھایا تھا، یقین کرو اب تک انتڑیاں بددعائیں دے رہی ہیں۔
“قسم سے مٹی پلید کر دی تھی گاجر کے حلوے کی”
اشنال سے اب ہنسی روکنا مشکل ہو گیا تھا

ہنسو مت……..”اس نے ڈپٹا”
تیار کرو اور بھیجو مجھے……” وہ سیریس تھا۔”
“مگر زئی میں کس طرح بھیجوں گی”
“وہ تمہارا مسئلہ ہے، مگر مجھے کھانا ہے ہر حال میں۔”
اممممممممم………” وہ کچھ سوچنے لگی پھر بولی۔”
“زئی تم ایسا کرنا ایک گھنٹے بعد ہمارے گیٹ پر کھڑے ہو کر زور سے آواز لگانا، وظیفہ!!!!!!!۔”
ایشے نے وظیفے کو لمبا کھینچا بلکل اسطرح جس طرح وظیفہ مانگنے والے بچے آوازیں لگاتے ہیں، پھر بولی۔
اس طرح امی سمجھیں گی واقعی وظیفے والا آیا ہے
“پھر میں تمہیں گیٹ پر حلوہ دے جاؤ گی۔”
“ایشے کی بچی میں تمہیں کچا کھا جاؤں گا۔”
ہاہاہاہاہاہا – وہ ہنسی اور ہنستی چلی گئی۔
اس شام ایشے نے فری کی منتیں کی تھیں کہ کسی طرح وہ گاجر کا حلوہ زئی تک پہنچا دے فروا نے اپنے چھوٹے بھائی کے ذریعے حلوہ زئی تک پہنچا دیا تھا….. جسے زئی اب مزے لے لے کر کھا رہا تھا، اور ساتھ اعتراف کر رہا تھا کہ گاجر کا حلوہ بنانے والی کے ہاتھ چوم لے
ادھر اشنال یہ میسج ملتے ہی بلش کر اٹھی تھی
گناہوں کے سیاہ کاغذ بھاری ہونے لگے تھے

کچھ لوگ لاشعوری میں غلطیاں کرتے ہیں تب انہیں صحیح غلط کی پہچان نہیں ہوتی، ایسے لوگوں کی سزاؤں میں قدرت کچھ کمی لے آتی ہے، انہیں جلدی ہی اپنی غلطی کی پہچان ہو جاتی ہے، انہیں راستے بھی مل جاتے ہیں اور منزل بھی۔
ان کے برعکس وہ لوگ جو شعور کی تمام تر آگاہوں میں قدم رکھنے کے بعد جانتے بوجھتے، صحیح اور غلط کی پہچان ہونے کے باوجود گناہوں میں ہاتھ ڈالتے ہیں،ان کی سزائیں پھر لمبی ہوتی ہیں، پھر اندھیرے اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں راستے دکھائی نہیں دیتے۔
یہ لوگ اپنے لئے کھائی خود تلاش کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ کھائی میں ایک بار گرنے کے بعد کھائی سے نکلنا مشکل ہوتا ہے،کھائی کی گہرائی ناپنے کا  پیمانہ نہیں ملتا۔
…پھر گرنا ہی گرنا ہوتا ہے
اس نے جب میڑک کیا تب وہ پندرہ سال کی تھی، ایف ایس سی کے رزلٹ آؤٹ ہونے تک وہ سترہ سال کی تھی، وہ لڑکھڑائی تب جب وہ بالغ ہو چکی تھی۔ اس کی زندگی میں گناہوں کا آغاز اٹھارہویں سال میں ہوا تھا، اور اس عمر میں گناہوں کی عادت پڑ جائے تو چھوٹنا مشکل ہو جاتی ہے۔ اور پھر سزاؤں کا دورانیہ لمبا ہو جاتا ہے۔

─── ⋆⋅☆⋅⋆ ───

فروا نے کچھ ڈریسز لیے تھے اور اشنال کو دیکھنے کیلئے بکایا تھا وہ تیار ہو کر نکلنے ہی لگی تھی کہ اسے زئی کا ٹیکسٹ آیا۔
“میں بور ہو رہا ہوں ایشے۔”
کچھ دیر قبل میں بھی ایسا ہی محسوس کر رہی تھی، مگر اب بوریت کو گڈ بائے کہنے فروا کے گھر جارہی ہوں
“کوئی ضروری کام تھا؟”
ہاں نہیں ایسا ضروری بھی نہیں وہ اپنے ڈریسز دکھانے بلا رہی ہے۔
“تو ڈریسز لے کر تمہارے گھر آجائے۔”
“ہمیشہ وہ ہی آتی ہے، آج میں نے سوچا میں چلی جاتی ہوں۔”
“ایشے مجھے تمہارا وہاں جانا اچھا نہیں لگتا۔”
ہیں؟ ایسا کیوں؟” اسے تعجب ہوا”
“وہاں اس کے بھائی بھی ہیں،وہ تمہیں دیکھتے ہونگے”
“بس مجھے اچھا نہیں لگتا تمہیں میرے سوا کوئی دیکھے۔”
مگر زئی ہم لوگ الگ روم میں ہوتے ہیں، فروا کے بھائی گھر پر ہوں بھی تو اس روم میں نہیں آتے
اشنال نے اسے سمجھانا چاہا۔
“مجھے اچھا نہیں لگتا، آگے تمہاری مرضی”
وہ اپنی بات کہہ چُکا تھا، اور ایشے وہ سوچ ہی چھوڑ دیتی تھی، جو زئی کو اچھی نا لگے
کوئی بہانا بنا کر اس نے فروا کو انکار کر دیا تھا، اب وہ فروا کے گھر جانا چھوڑ چکی تھی، جس پر فری اس سے ناراض بھی ہوئی، وجہ بتانے پر فروا نے اس سے پوچھا۔
“اگر زئی کہے تو مجھ سے دوستی بھی چھوڑ دو گی؟”
جس پر اشنال نے اس سے کہا تھا زئی اسے بلاوجہ بے تکی پابندیاں نہیں لگاتا، وہ ایسا کچھ نہیں کہے گا۔
…جاری ہے

Pagal Ankhon Wali Larki Episode 4 ends with emotions and suspense. Share your thoughts below !

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top