Delusion – Last Episode
<p style="text-align: right;">پاپا ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوکر گھر آگئے تھے۔ عیسیٰ ان کی زمہ داریاں سنبھالنے لگا تھا۔ لیکن ایک لاپرواہ اور اپنی مرضی سے آزادانہ طور پر زندگی جینے والے کیلئے یہ سب بے انتہا مشکل کام تھا۔ اسے اپنی زندگی کے یہ دن مشکل ترین محسوس ہورہے تھے۔ وہ تھک چکا تھا۔ پاپا کے مکمل طور پر صحتیاب ہونے تک اسے یہ سب زمہ داریاں اٹھانی تھیں۔ صبح کا گیا شام کو گھر لوٹا تو آگے کا ماحول دیکھ کر اس کا صبر جواب دے گیا۔<br />گھر میں چہل پہل تھی۔ کیف کی فیملی کو دیکھ کر عیسیٰ کا خون کھول اٹھا تھا۔ وہ مہمانوں کے عین سامنے کھڑا انہیں گھور رہا تھا۔ <br />"کیسے ہو عیسیٰ؟"<br />فرحین کی دوست جو کہ کیف کی خالہ تھیں انہوں نے عیسیٰ کو گھورتے دیکھ کر پوچھا۔<br />عیسیٰ نے جواب دینے کیلئے ابھی منہ کھولنا ہی چاہا تھا کہ اسے عکس کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی۔ عکس کیف کی کزن کے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ عیسیٰ کی اب بس ہوگئی تھی وہ آنٹی کے سوال کو اگنور کرتے ہوئے عکس کی طرف گیا۔<br />"اتارو اسے نیچے"<br />عکس کی گود میں دو سالہ بچہ تھا۔ عیسیٰ کی آواز غصے میں اور بھی بھاری ہوگئی تھی۔ عکس نے فوراً بچے کو گود سے نیچے اتارا۔ <br />پھر عیسیٰ نے عکس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ تقریباً گھسیٹتے ہوئے اوپر والے پورشن میں لے گیا۔ نیچے بیٹھے سبھی افراد نے یہ منظر خاموشی سے دیکھا۔ <br />"جو کام مجھے پسند نہیں ہے وہ بار بار کیوں کرتی ہو؟ مجھے غصہ دلانے کیلئے؟"<br />عیسیٰ نے تحمل سے پوچھا۔<br />"میں کچھ بھی کسی کو دکھانے کیلئے نہیں کررہی, میں ایک نارمل لائف جینا چاہتی ہوں" <br />عکس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔<br />"تو تمہاری لائف نارمل ہی ہے نا؟ کونسی مشکلات ہیں اس میں؟"<br />"میں مزید کسی پر بوجھ بن کر نہیں رہنا چاہتی اب"<br />عکس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔<br />"میری وجہ سے تم اپنی خوشیوں سے محروم ہو, اس وقت میرے لئے مشکل تھا تمہارے بغیر جینے کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔ مگر اب مجھے رئیلائیز ہوا ہے کہ زبردستی نا کسی کی محبت ملتی ہے نا انسان کی کوئی عزت رہتی ہے۔ میں کیف سے شادی کرنا چاہتی ہوں, جو وقت میں نے تمہارا ضائع کیا اس کیلئے سوری, مزید ساتھ چلنا ایک ایسے رشتے کو گھسیٹنا جس میں دل کی خوشی شامل نہ ہو۔ میرا نہیں خیال کوئی فائدہ دے گا"<br />عکس کی لمبی چوڑی تقریر پر عیسیٰ نے لمبی سی سانس بھری پھر کہنے لگا۔<br />"کیا ہم سب کچھ پہلے جیسا نہیں کرسکتے؟"<br />عیسیٰ کے لفظ اس کا لہجہ سن کر عکس کو اپنے کانوں پر یقین نا آیا۔ وہ اسے دیکھتی رہی۔<br />"غصہ آتا ہے مجھے جب تم اس کے, اس کی فیملی کے آگے پیچھے پھرتی ہو"<br />عیسیٰ بول رہا تھا اور سن رہی تھی۔<br />"وہ نا بھی ہو کوئی اور بھی ہو، تب بھی مجھے غصہ آئے گا"<br />عیسیٰ نے تسلیم کیا۔ اور عکس نے سنا۔<br />"جو بولو گی وہ کرلوں گا۔ جیسا بولو گی ویسا بن جاؤں گا"<br />عیسیٰ سے لفظ کہنے مشکل ہورہے تھے۔ مگر یہ سب کہنا پھر بھی آسان تھا عکس کو کسی اور کیساتھ دیکھنے سے ۔ <br />"اور افراح؟"<br />عکس نے اس لڑکی کا پوچھا جو دونوں کے درمیان آگئی تھی۔<br />"اسے چھوڑ چکا ہوں"<br />"اور اگر وہ پھر سے یاد آئی تو؟"<br />"اونہہہہ, نہیں آتی یاد"<br />اس نے فوراً کہا۔<br />"کوئی جھگڑا ہوا ہے اس کے ساتھ؟"<br />عکس کو شک تھا عیسیٰ محض جذبات میں یہ سب کہہ رہا ہے۔<br />"تم کیسے کرو گی شادی؟ ایک نکاح پر دوسرا ہوتا ہے کیا؟"<br />عیسیٰ نے عکس کی بات کو اگنور کرنا مناسب سمجھا۔<br />عیسیٰ اب دوبارہ سے شیطانی روپ میں آرہا تھا۔ اور ہنس کر کہہ رہا تھا۔<br />عکس نے کچھ دیر اسے دیکھا پھر کہنے لگی۔<br />"میں انسان ہوں, مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے دکھ ہوتا ہے, آج تمہارا اس سے جھگڑا ہوا ہے تو تمہیں میں نظر آرہی ہوں, کل اس کے ساتھ تمہارا سب صحیح ہو جائے گا تو تم مجھے پھر سے دیکھنا بھی پسند نہیں کرو گے"<br />عکس کی بات سن کر عیسیٰ کو سمجھ نہیں آیا وہ اسے کیسے سمجھائے ۔<br />"میں افراح کو چھوڑ دوں گا بس تم شادی مت کرو"<br />وہ چھوڑ چکا تھا اسے مگر اس وقت اسے بلکل بھی سمجھ نہیں آرہا تھا وہ عکس کو کیسے قائل کرے۔<br />"میں نہیں چاہتی تم اسے چھوڑو, جس کیلئے تم نے سب کچھ چھوڑا اسے اب تم کیوں چھوڑ رہے ہو؟"<br />"تم اس کا نام لینا بند کرو گی؟"<br />اب عیسیٰ نے غصہ دکھایا تھا <br />"جب بول رہا ہوں اسے چھوڑ چکا ہوں تو بات ختم"<br />اونچی آواز میں وہ عکس کو چپ کروا گیا تھا مگر یقین نہیں دلا سکتا تھا۔<br />"جو کہنا ہے ماما سے کہہ دینا, مجھے کیف سے شادی کرنے میں کوئی مشکل نہیں, کیف نا بھی ہو کوئی اور بھی ہو تب بھی میں شادی کرلوں گی۔ کیونکہ مجھے بھی زندگی جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا تمہیں"<br />عکس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اور پھر اسے مشکل میں چھوڑ گئی۔<br />____________</p><p style="text-align: right;">وہ پریشان رہنے لگا۔ نا ٹھیک سے کھانا کھاتا۔ نا باتیں کرتا۔ اڑتالیس گھنٹوں میں وہ صرف دو گھنٹے سو سکا تھا۔ عیسیٰ کو پریشان دیکھ کر ماما اور پاپا بھی پریشان رہنے لگے تھے۔ فرحین پوچھتی تھیں اس سے پریشانی کا سبب مگر وہ بتاتا نہیں تھا۔ <br />"عکس وہ بہت پریشان ہے, سویا نہیں وہ ساری رات"<br />ماما نے عکس سے کہا <br />"کیوں پریشان ہے؟"<br />"بتاتا نہیں ہے"<br />"افراح یاد آرہی ہوگی"<br />عکس نے اطمینان سے ہنس کر کہا<br />"میں نے پوچھا تھا بولا تھا میں نے ۔ کہا تھا میں نے, اس کی فیملی کا نمبر دو میں بات آگے بڑھاتی ہوں"<br />"ہممم پھر؟"<br />"کہتا ہے میں افراح کو چھوڑ چکا ہوں"<br />عکس خاموش رہی۔<br />"عکس؟"<br />فرحین نے کچھ جھجک کر اسے پکارا<br />"جی ماما"<br />"ہمیں کوئی حق نہیں ہے تمہاری زندگی کے ساتھ کھیلنے کا یا پھر تمہیں تمہاری خوشیوں سے محروم رکھنے کا۔ میں چاہتی تھی کہ تم کیف کے ساتھ اچھی زندگی گزارو۔ وہ بہت نیک لڑکا تھا تمہیں بہت محبت اور عزت سے رکھ سکتا تھا۔ مگر"<br />"مگر؟"<br />وہ انہیں دیکھنے لگی۔<br />"مجھے لگتا ہے عیسیٰ کو عقل آگئی ہے"<br />فرحین نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں بولا تو عکس مسکرائی۔<br />"اور مجھے لگتا ہے عیسیٰ وہ شخص ہے جو نا اپنا بنائے گا نا کسی اور کا ہونے دے گا"<br />"تمہیں لگتا ہے وہ بس جیلس ہورہا ہے؟"<br />انہوں نے پوچھا۔<br />"ہممم جب یہ قصہ ختم ہو جائے گا، عیسیٰ افراح کے پاس چلا جائے گا"<br />اتنے یقین سے کیسے کہہ رہی ہو"<br />انہوں نے پھر پوچھا<br />"ماما عیسیٰ نے ابھی تک افراح کے ساتھ لی گئی تصویروں کو سوشل اکاؤنٹس سے ریموور نہیں کیا"<br />فرحین سوچنے لگی تھیں کہ عکس پھر بول پڑی <br />"جب ہم کسی سے تعلق ختم کرتے ہیں تو سب سے پہلے میموریز ڈیلیٹ کرتے ہیں, ہم سنبھال کر اسے رکھتے ہیں جسے ہم چھوڑ نہیں سکتے کبھی"<br />"تمہیں لگتا ہے وہ اب بھی افراح سے محبت کرتا ہے؟ یہ سب ناٹک صرف ضد میں کررہا ہے؟"<br />انہوں نے پوچھا۔<br />"ماما جس کے دل میں, میں نہیں ہوں اس کی زندگی میں رہ کر کیا کروں گی؟"<br />عکس نے افسردگی سے نم آنکھوں سے کہا۔<br />"آج سے پہلے اسے اتنا پریشان کبھی نہیں دیکھا میں نے"<br />فرحین اب بھی عیسیٰ کو لیکر شش و پنج میں مبتلا تھیں۔<br />"مجھے ایسے لگتا ہے۔ کیف سے اسے بس ضد ہے۔ یہ چیپٹر ختم ہوا تو پرانے والا عیسیٰ میرے سامنے کھڑا ہوگا۔ جو مجھے دیکھنا تک پسند نہیں کرتا تھا"<br />عکس کی اپنی سوچ تھی۔ ہوسکتا تھا وہ ٹھیک سوچ رہی ہو۔ کیونکہ عیسیٰ کیا سوچتا ہے کیا کرنا چاہتا ہے اور کس بات پر قائم رہے گا یہ سب جان لینا بے حد مشکل تھا۔<br />"کرتی ہوں بات اس سے, ایسے کب تک چلتا رہے گا"<br />فرحین پریشانی کے عالم میں عکس کے روم سے نکلیں۔<br />___________<br />کیوں پریشان ہے میرا پتر؟"<br />فرحین نے گود میں سر رکھ کر لیٹے عیسیٰ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھا ۔<br />"اونہہہہ, نہیں ہوں پریشان"<br />اس نے ٹال دیا۔<br />"دیکھ پتر , تو چاہتا ہے تو میں تیرے لئے تیری خوشی کیلئے افراح کے گھر چلی جاتی ہوں, ایسے پریشان ہو کے نا بیٹھ مجھے بتا میں تیری خوشی کیلئے کردوں گی"<br />انہیں اپنے اکلوتے بیٹے کا اداس پریشان چہرہ بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔<br />"ماما افراح نہیں چاہئیے, کتنی بار بتاؤں میں نے اسے چھوڑ دیا ہے, میں نہیں ہوں اس کی وجہ سے پریشان"<br />عیسیٰ نے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی۔<br />"تم ساری رات نہیں سوتے عیسیٰ"<br />"ماما پہلے کونسا سوتا تھا"<br />اس نے پھر ٹال دیا۔<br />"رات میں نہیں سوتے تھے۔ مگر صبح سوتے تھے اور شام میں اٹھتے تھے۔ اب تو تم عیسیٰ سوتے ہی نہیں ہو, کیوں اتنے پریشان ہو, پتر تیری ماں ہوں میں مینوں دس، میں تیری تکلیف نوں سمجھ سکنی آں, میں کراں گی تیری پریشانی دور, تو دس تا سہی"<br />وہ زیادہ لاڈ میں ہوں تو پنجابی بولا کرتی تھیں۔<br />"وہ واقعی شادی کرلے گی؟"<br />آخر کار عیسیٰ کے اندر کا ڈر باہر نکل آیا۔<br />فرحین نے دل ہی دل میں سکھ کا سانس لیا مسکرائیں اور عیسیٰ کے ماتھے کو چوم کر کہنے لگیں۔<br />"ہاں وہ کرلے گی"<br />عیسیٰ بےچین ہوا اس نے گود سے سر اٹھا کر دیوار سے ٹیک لگائی۔<br />"یہ شادی وہ پہلے بھی کرسکتی تھی نا؟ مجھ سے شادی کرنے کی کیا ضرورت تھی پھر"<br />"پتر اس وقت اس کیلئے تمہیں چھوڑ کر کسی اور کو سوچنا بہت زیادہ مشکل تھا۔ اور کہیں اسے اور مجھے یہ لگتا تھا کہ تم آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجاؤ گے"<br />"اور اب اسے مجھے چھوڑ کر کسی اور سے شادی کرنا آسان ہوگیا ہے؟"<br />عیسیٰ نے شکوہ کیا۔<br />"بہت بھاگی ہے وہ تمہارے پیچھے, بہت روئی ہے وہ, بہت منتیں ترلے کئے اس نے, اپنی آخری حد تک اس نے کوشش کی کہ وہ تمہارے ساتھ رہے, اور تم واپس آجاؤ, مگر پتر جب عورت کو یقین ہو جائے نا کہ اسکا مرد واپس نہیں آئے گا پھر وہ خاموش ہو جاتی ہے, پھر وہ اپنا راستہ علیحدہ کرلیتی ہے"<br />عیسیٰ فرحین کی باتیں بغور سن رہا تھا۔<br />"تو آ تو گیا ہوں نا واپس"<br />عیسیٰ نے آہستہ سے نظریں جھکا کر کہا۔ فرحین کو یقین نا آئے۔ <br />"تم نہیں چاہتے وہ شادی کرے؟"<br />"اسے بتائیں جاکر, مجھے نہیں اچھا لگ رہا یہ سب, میں دیکھتا ہوں وہ کیا کرتی ہے"<br />اس شخص کی محبت کا انداز بھی عجیب ہی تھا۔ <br />فرحین کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔<br />"میں اسے بتادیتی ہوں مگر عیسیٰ تم نے اسے بہت رلایا ہے, بہت تکلیف میں رہی ہے وہ, بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا, ابھی اس نے بڑی مشکل سے خود کو نارمل لائف کی طرف لانا شروع کیا ہے, تم ایک ایسے انسان کی تکلیف نہیں سمجھ سکتے جو خود سے جنگ لڑ رہا ہو"<br />وہ خاموشی سے سن رہا تھا۔<br />"اگر اس سے محبت ہے تو اس کے ساتھ رہو, دل میں اس کیلئے جگہ ہے تو اس کے پاس واپس جانے کا سوچو, اگر اسے محبت اور عزت اور پہلے والا مقام نہیں دے سکتے تو صرف اپنی جذباتیت کیلئے اسے استعمال مت کرو"<br />عیسیٰ نے اپنی ماما کو ناراضگی سے دیکھا۔<br />"ماما وہ مجھے یاد آتی ہے, مگر میں اتنا شریف بھی نہیں ہوں۔ جتنا آپ نے سمجھ لیا ہے, جب کہیں گی شادی کرلوں گا جب کہیں گی چھوڑ دوں گا"<br />پہلے والی لائن کی خوبصورتی کو کم کرنے کیلئے عیسیٰ نے دوسرا جملہ کہہ کر بدصورت بنانے کی ناکام کوشش کی۔<br />فرحین بار بار اس کی باتوں پر مسکرا رہی تھیں۔<br />"ابھی جائیں اور اسے بول کر آئیں, دیکھتا ہوں کیا کرتی ہے, ابھی تو اسے پتا ہے ناں مجھے نہیں اچھا لگ رہا یہ سب"<br />عیسیٰ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ماما کو ابھی فوراً عکس کے پاس بھیجے۔ فرحین مسکراتے ہوئے عیسیٰ کا ماتھا چوم کر نیچے آگئیں۔<br />_______________</p><p style="text-align: right;">"یاد کررہا ہے وہ تمہیں"<br />فرحین کی آواز پر عکس کے پینٹنگ کرتے ہاتھ رک گئے۔<br />"کہہ رہا ہے اسے اچھا نہیں لگ رہا تمہارا کیف سے شادی کرنا"<br />فرحین کی آواز میں آج اس قدر خوشی تھی کہ انکا لہجہ کانپ رہا تھا۔<br />"ماما ہوسکتا ہے یہ سب وقتی ہو"<br />عکس نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔<br />"عکس میں نے اسکی نظروں میں اس کی آواز کی لڑکھڑاہٹ میں اس کے لہجے میں تمہارے لئے محبت دیکھی ہے"<br />"ماما اس کی محبت لمحوں میں اڑ جاتی ہے"<br />عکس ابھی تک عیسیٰ کی واپسی کو لیکر کنفیوز تھی۔<br />"ایک ہفتے سے وہ پریشان ہے اور اس کی پریشانی کی وجہ افراح نہیں ہے, وہ تمہاری طلاق کی ڈیمانڈ کو لیکر پریشان ہے"<br />فرحین نے سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر وہ تو بدگمان تھی۔<br />"آپ کیا چاہتی ہیں میں۔ اسے معاف کردوں؟"<br />عکس نے پوچھا۔<br />"تمہیں فیصلہ خود کرنا ہے عکس, تم اس سے بات کرو اگر تمہیں وہ سچا لگتا ہے تو اسے ایک بار معاف کرکے دیکھ لو, پہلی غلطی تو معاف کردینی چاہئیے ناں؟"<br />وہ ماں تھی انہیں اپنے بیٹے کی آنکھوں اور دل کا حال نظر آچکا تھا ۔ مگر عکس بدگمان تھی اسے یہ سب محض عیسیٰ کا اسے نیچا دکھانا لگ رہا تھا۔<br />ان کے جانے کے بعد عکس نے کافی دیر سوچا کہ اسے عیسیٰ سے بات کرنی چاہئیے یا نہیں، وہ ابھی اس سوچ بچار میں ہی تھی کہ اسے عیسی اپنے دروازے پر کھڑا نظر آیا ۔<br />سفید کرتے میں اداس پریشان سا چہرہ, نا ڈمپل تھے گالوں پر، نا آنکھوں میں وہ چمک تھی, بےترتیب سے بال تھے, الجھا بکھرا تھکا ہارا ہوا چہرہ۔ وہ عکس کے روم میں۔ پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ <br />"کیسی ہو؟"<br />"ٹھیک ہوں"<br />عکس اس کے سامنے اپنے بیڈ پر آبیٹھی۔<br />وہ خاموش رہا تو عکس بول پڑی۔<br />"کیوں پریشان ہو؟"<br />اس نے عکس کو دیکھا۔<br />"نہیں ہوں پریشان"<br />پھر نظریں پھیر لیں۔<br />"پریشان تو ہو۔ وہ الگ بات ہے بتانا نہیں چاہتے"<br />"ہممم نہیں بتانا چاہتا"<br />وہی ضد۔<br />"میں نے ماما سے بولا ہے اس کا افراح کے ساتھ سب صحیح کردیں, جہاں وہ خوش ہے اسے وہاں لے جائیں"<br />"میں جس کے ساتھ خوش ہوں اس وقت اس سے بات کررہا ہوں"<br />عیسیٰ کے کہنے پر عکس کا دل ایک لمحے کو دھڑکا مگر وہ پھر نارمل ہوگئی کیونکہ اب اسے یقین نہیں رہا تھا نا محبت پر نا ایسی باتوں پر۔<br />"سب کچھ پہلے جیسا نہیں ہوسکتا؟"<br />یہ بات عیسیٰ نے آج دوبارہ کہی تھی اور دوبارہ کہنے پر بھی عکس کے دل میں ہلچل نہیں ہوئی تھی۔ <br />"یہاں تو سب کچھ پہلے جیسا ہی ہے, بس تم پہلے جیسے نہیں رہے"<br />عکس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں ویرانیاں تھیں۔<br />"میں پہلے جیسا ہوجاؤں گا"<br />وہ اسے یقین دلا رہا تھا۔<br />"میں کوئی تعلق زبردستی نہیں رکھوانا چاہتی"<br />"میرا دل کھول کر دیکھا ہے؟"<br />اس نے عکس سے سخت لہجے میں پوچھا۔<br />"اب تمہارا بھروسہ نہیں رہا مجھے, دو دن بعد تم پھر مجھ سے اکتا گئے تو میں کہاں جاؤں گی؟"<br />عکس نے صاف صاف کہہ دیا۔<br />"اب ایسا نہیں ہوگا"<br />"مجھے تم پر اعتبار نہیں"<br />اس نے دو ٹوک کہا۔<br />"وقت سب کچھ دکھا دے گا"<br />"میں وقت کے آسرے پر نہیں رہنا چاہتی اب"<br />وہ پھر اسے روک رہی تھی۔<br />"میں تمہیں طلاق نہیں دے سکتا"<br />"کیوں؟"<br />"میری مرضی"<br />دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے سے قاصر تھے۔<br />"انسان ہوں میں, تمہارے دھکے کھانے کیلئے نہیں ہوں میں"<br />عکس نے نفرت سے کہا۔<br />"جاناں"<br />اچانک عیسیٰ نے اسے پیار سے پکارا۔<br />لیکن ایک بدگمان شخص پر ایسے کسی بھی لفظ کا اثر نہیں ہونا تھا۔<br />وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر عکس کے قریب آیا۔ اس کے سامنے دو زانو بیٹھ کر اس کی آنکھوں میں نظریں اٹھا کر دیکھ کر کہنے لگا۔<br />"اس بار معاف کردو"<br />عیسیٰ کے منہ سے لفظ نکلے عکس کی آنکھ سے آنسو نکلا۔<br />"پہلی غلطی آخری غلطی سمجھ کر معاف کردو"<br />دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ عکس نم آنکھوں سے اور عیسیٰ سرخ آنکھوں سے۔<br />"مجھے تم پر یقین نہیں ہے ون پرسنٹ بھی نہیں"<br />عکس نے روتے ہوئے کہا تھا۔<br />"میں دوبارہ بنالوں گا یقین"<br />وہ وعدہ کررہا تھا۔<br />"تم پھر چھوڑ جاؤ گے"<br />وہ یقین کرنے سے ڈر رہی تھی۔<br />"بتاؤ کیسے یقین دلاؤں؟ تمہاری ساری مان لوں گا"<br />اس نے عکس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے۔<br />عکس کھینچ لینا چاہتی تھی۔ مگر عیسیٰ کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ اس شخص کی باتوں میں دوبارہ نہیں آنا چاہتی تھی مگر وہ شخص اسے یقین دلانے کیلئے اس کی نظروں کے سامنے دو زانو بیٹھا تھا۔<br />"تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے"<br />عکس نے اسے یاد دلایا۔<br />"میں تمہارے علاؤہ کسی سے محبت نہیں کرسکا"<br />"تم جھوٹ بول رہے ہو تم نے کی تھی اس سے محبت"<br />عکس نے اسے پھر یاد دلایا۔<br />"وہ محبت نہیں تھی, اٹریکشن تھی, جو ختم ہوگئی"<br />"تم نے اس کی پکچرز ابھی تک انسٹا پر لگائی ہوئی ہیں"<br />عکس کی سوئیاں وہیں رکی ہوئی تھیں۔<br />"میں اپنی سوشل ایپس ڈیلیٹ کرچکا ہوں, گیم بھی ڈیلیٹ کرچکا میں تو"<br />عیسیٰ اپنا گواہ خود تھا۔<br />"مجھے تو نظر آرہی ہیں ناں"<br />عورت اپنے محبوب کے آگے ہی اپنا بچپنا ظاہر کرتی ہے جیسے وہ ابھی کررہی تھی۔<br />"ہٹا دوں گا, اور بتاؤ؟"<br />وہ آج ساری ماننے کو تیار تھا۔<br />عکس نے اسے بدگمانی سے دیکھا۔<br />"ابھی منوا لو جو جو منوانا ہے, ابھی میں تمہارے بس میں ہوں, لوٹ لو مجھے"<br />وہ شدت سے چاہ رہا تھا عکس اسے پھر سے مل جائے۔<br />"چھوڑ کر تو نہیں جاؤ گے؟"<br />اس کی بدگمانی عروج پر تھی۔<br />"جتنی محبت تم نے مجھ سے کی ہے ناں, وہ مجھے۔ باہر کسی سے نہیں مل سکتی"<br />عیسیٰ نے تسلیم کیا۔ وہ مانتا تھا عکس اس سے بےانتہا محبت کرتی ہے۔<br />"مطلب تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے"<br />"مجھے تم سے محبت نا ہوتی تو ابھی تمہارے پیروں میں نا بیٹھا ہوتا"<br />عکس نے دیکھا وہ واقعی اس کے پیروں میں بیٹھا اس کے ترلے کررہا تھا۔ وہ عیسیٰ جو ترلے کرواتا تھا آج اس کے ترلے کررہا تھا۔<br />"تمہارے اندر جو بدگمانیاں ہیں نا وہ میں دور کردوں گا, وقت دو مجھے"<br />وہ کافی دیر اس کے پیروں میں بیٹھا رہا اسے مناتا رہا۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔<br />________<br />مری کے پہاڑوں پر برف گررہی تھی۔ عیسیٰ کے ہاتھ میں فون تھا جسکا اسپیکر آن تھا اور عکس بھی سن رہی تھی۔<br />"پاپا آپ کیلئے کیا لاؤں؟"<br />"میرے لئے پوتا پوتی لے آؤ"<br />ان کی بات پر جہاں عیسیٰ کی ہنسی چھوٹی وہیں عکس نے رخ موڑا۔<br />"یہاں کہاں سیل ہوتے ہیں بتادیں لے آتا ہوں"<br />عیسیٰ کہاں کم تھا وہ مزید انجوائے کررہا تھا۔<br />"زیادہ معصوم بننے کی ایکٹنگ نہیں کرو, میں اپنی زندگی میں اپنے عیسیٰ کی اولاد کو کندھوں پر بٹھا کر لاہور شہر گھمانا چاہتا ہوں"<br />انہوں نے افسردگی سے کہا۔<br />"چلو عکس پاپا کی خواہش پوری کرتے ہیں"<br />منہ پھٹ بدتمیز عیسیٰ شکر ہے پاپا فون سے دیکھ نہیں سکتے تھے ورنہ جتنا وہ ایمبیریس ہوئی تھی عیسیٰ کی بات پر۔<br />اس نے عیسیٰ کو گھورا۔ جس پر عیسیٰ کا قہقہہ مری کے پہاڑوں نے سنا۔<br />"اوکے ہوگیا پاپا جی۔ کرتے ہیں کچھ آپ کی خواہش کا بھی"<br />عیسیٰ نے آخری سلام دعا کے بعد فون بند کیا اور عکس کی جانب آیا جو کھڑکی میں کھڑی برف زار پہاڑوں کو دیکھ رہی تھی۔<br />"اب بزرگوں کو بچے ہی چاہئیے ہوتے ہیں ہماری طرح ڈالرز اور گاڑیاں تو نہیں چاہئیے ہوتی ناں"<br />عیسیٰ نے اپنی اوڑھی شال میں عکس کے وجود کو چھپایا۔<br />وہ خاموش رہی۔<br />"میں کوشش کروں گا سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے"<br />"پہلے جیسا کیوں پہلے سے خوبصورت کیوں نہیں؟"<br />وہ دل سے مسکرایا عکس نے اپنا رخ پہاڑوں کی سمت موڑا عیسیٰ نے اپنی ٹھوڑی عکس کے کندھے پر ٹکادی۔ اور اپنے بازو کے گھیرے میں عکس کو قید کرلیا۔ برف زار پہاڑوں نے دور سے دیکھ کر ان کی نظر اتاری۔</p><p style="text-align: right;">اختتام ۔<br />(اشنال)</p><p style="text-align: center;">Thank you for reading <strong>Delusion</strong>, an Urdu novel by <strong>Eshnal</strong>, exclusively on <strong>Pagal Ankhon Wali Larki</strong>.<br />Explore more Urdu novels and stories on our website.</p>